ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اڈپی : حجاب کی اجازت نہ ملنے پر امتحانی مرکز سے واپس لوٹ گئیں 2 طالبات

اڈپی : حجاب کی اجازت نہ ملنے پر امتحانی مرکز سے واپس لوٹ گئیں 2 طالبات

Sat, 23 Apr 2022 11:12:47    S.O. News Service

اڈپی ،23؍ اپریل (ایس او نیوز) کالج کلاس روم میں حجاب پہننے پر لگی روک کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والی طالبات کل پی یو سیکنڈ ایئر امتحان میں شریک نہیں ہوئیں بلکہ حجاب کے ساتھ امتحان لکھنے کی اجازت نہ دینے وہ امتحان دئے بغیر ہی امتحانی مرکز سے واپس لوٹ گئیں ۔

کل بزنس اسٹڈیز کا پرچہ تھا جس میں شریک ہونے کے لئے گورنمنٹ گرلز پی یو کالج کی طالبہ  عالیہ اسدی  اور ریشما نے اپنے کالج پہنچ کر ہال ٹکٹ حاصل کیا اور وہاں سے اپنے امتحانی مرکز اڈپی ودیودیا پی یو کالج پہنچ کر پرنسپال سے درخواست کی کہ انہیں حجاب کے ساتھ امتحان لکھنے کی اجازت دی جائے ۔ مگر پرنسپال نے حکومت کی ہدایت کے مطابق حجاب کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور حجاب اتار کر امتحان میں  شریک ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن یہ طالبات کسی طور بھی اس پر راضی نہیں ہوئیں ۔ اس کے بعد دونوں طالبات آنکھوں میں آنسو لے کر وہاں سے اپنے گھر کے لئے واپس لوٹ گئیں ۔

خیال رہے کہ اس سے قبل ہائی کورٹ جانے والی عالیہ اسدی اور الماس اے ایچ نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ وزیراعلیٰ بومئی سے بھی درخواست کی تھی کہ انہوں امتحان کی پوری تیاری کرلی ہے اس لئے انہیں حجاب کے ساتھ امتحان لکھنے کی اجازت دی جائے ۔

کریمنل کیس داخل کیا ہوگا : اس دوران حجاب مسئلہ کو پیچیدہ بنانے میں بڑا کردار ادا کرنے والے  اڈپی ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ نے کہا اڈپی گورنمنٹ کالج کی ان دو طالبات نے امتحانی مرکز پہنچ کر ناٹک کیا ۔ اب ہم ہی ان کے خلاف قانونی اقدام کرتے ہوئے ان پر ہتک عدالت کا کیس داخل کرنے جا رہے ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ امتحان کے ایک دن پہلے شام کو بھی فون کرکے ان طالبات کو بتا دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ہال ٹکٹ لے جائیں ۔ وہ امتحان کے دن 9.30 بجے کالج پہنچیں اور اپنا حجاب اتار کر ہال ٹکٹ حاصل کیا ۔ اس وقت بھی پرنسپال نے انہیں صاف بتایا تھا کہ حجاب اتارے بغیر امتحان ہال میں داخلہ نہیں دیا جائے گا ۔ پھر اس کے بعد انہوں نے امتحانی مرکز پر پہنچ کر ڈرامہ کیا ہے ۔ اگر وہ پھر دوبارہ آکر اس طرح کی حرکت کریں گی تو ان کے خلاف ہتک عدالت کا معاملہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ اور پولیس والوں سے میں نے بات کی ہے ۔ 


Share: